ہفتہ 29 اگست 2026 - 11:49
اسلامی وحدت کی حقیقی بنیاد؛ تربیت یافتہ ذہن، متوازن شخصیت اور مثبت کردار ہے: ڈاکٹر تسنیم موسوی

حوزہ/ جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی پرنسپل نے ہفتۂ وحدت اور میلادالنبی (ص) کی مناسبت سے عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی وحدت کی حقیقی بنیاد؛ تربیت یافتہ ذہن، متوازن شخصیت اور مثبت کردار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی: جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی پرنسپل ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی نے ہفتۂ وحدت اور میلادالنبی (ص) کے موقع پر، حوزہ نیوز کے نمائندے سے وحدتِ اسلامی میں خواتین کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین وحدتِ اسلامی اور اسے مستحکم کرنے میں نہایت اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی پرنسپل ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی نے اس سوال، اسلامی وحدت کے استحکام میں مسلمان خواتین کا کیا کردار ہے؟ کے جواب میں کہا کہ مسلمان خواتین وحدتِ اسلامی اور اسے مستحکم کرنے میں نہایت اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خواتین ایک طرف خاندان کی تربیت کی ذمہ داری ادا کرتی ہیں اور دوسری طرف معاشرے کی فکری، اخلاقی ،تربیتی اور اجتماعی تشکیل میں بھی مؤثر کردار رکھتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا، خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ حضرت خدیجہ (س) نے رسولِ خدا (ص) کا ساتھ دیا، اپنی دولت، مال اور صلاحیتوں کو اسلام کے لیے وقف کیا؛ حضرت فاطمہ (س) نے امام علی علیہ السّلام کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور اسلامی اقدار اور حق کے دفاع میں اپنا کردار ادا کیا؛ جبکہ حضرت زینب (س) نے امام حُسین علیہ السّلام کا ساتھ دیا اور واقعہ کربلا کے بعد حق و حقیقت اور دین کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ہستیوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ دینی، معاشرتی، سیاسی اور اجتماعی میدانوں میں بھی امت کی رہنمائی اور وحدت کے فروغ میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر تسنیم موسوی نے کہا کہ اسلام کی ان عظیم خواتین کے کردار کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ خواتین قرآن، سنت رسول اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی اور جدوجہد کا محور بنائیں۔

اسلامی وحدت کی حقیقی بنیاد؛ تربیت یافتہ ذہن، متوازن شخصیت اور مثبت کردار ہے: ڈاکٹر تسنیم موسوی

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی خواتین اگر قرآن و سنت کی مشترکہ تعلیمات کو بنیاد بناتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان محبت، اخوت، باہمی احترام اور تعاون کو فروغ دیں تو وہ وحدتِ اسلامی کو مضبوط کرسکتی ہیں۔ خاص طور پر آج کے دور میں وحدت کا پیغام قلم کے ذریعے ہو، زبان کے ذریعے ہو، کردار کے ذریعے ہو یا عملی اقدامات کے ذریعے؛ مسلم خاتون کو جہاں بھی محسوس ہو جائے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد، اخوت، باہمی احترام اور محبت کو فروغ دے سکتی ہے تو اسے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی پرنسپل نے اسلام کی عظیم خواتین کی زندگیوں سے درس لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی سوچ، گفتگو، کردار اور عمل وحدتِ اسلامی کا ذریعہ بن جائے تو یہ ایک ایسا راستہ قرار پائے گا کہ جس کے ذریعے خواتین اپنے معاشرے میں اتحاد کو مضبوط اور امت مسلمہ کو مزید مستحکم بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں اور اس طرح خواتین نہ صرف خاندان، بلکہ پورے معاشرے میں وحدت اسلامی کی مؤثر سفیر بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی نے اسلامی وحدت کے حوالے سے خواتین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میرا پیغام خواتین کے لیے یہ ہے کہ وحدتِ اسلامی کا آغاز صرف معاشرے سے نہیں، بلکہ انسان کی سوچ اور شخصیت سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان کے اندر برداشت، وسعت نظر، احساسِ ذمہ داری اور دوسرے کے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو وہی رویہ گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے وحدت کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنی ذہن سازی اور اپنی تربیت پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو نفرت، تعصب اور دوسروں کو قبول نہ کرنے کا رویہ انسان کو تقسیم کرتا ہے، جبکہ احترام، مثبت سوچ اور احساسِ تعلق انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ خواتین اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ خواتین ہی بچوں کی ابتدائی ذہنی اور جذباتی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر ہم بچوں کو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا، سننا، سمجھنا اور برداشت کرنا سکھائیں تو ہم ایک ایسی نسل تیار کرسکتے ہیں جو تفرقے کے بجائے اتحاد کو ترجیح دے گی۔

سیدہ تسنیم زہراء نے خصوصی طور پر تعلیمی اداروں سے وابستہ خواتین کی وحدتِ اسلامی سے متعلق ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں سے منسلک خواتین کی ذمہ داری صرف نوجوانوں میں علمی قابلیت پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کی فکری پختگی، جذباتی توازن، برداشت اور سماجی ذمہ داری کو بھی پروان چڑھانا ہے۔ ہمیں یہ سمجھانا ہوگا کہ اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تعصب اور دشمنی میں تبدیل کرنا ہماری اجتماعی کمزوری بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ وحدتِ اسلامی کی حقیقی بنیاد تربیت یافتہ ذہن، متوازن شخصیت اور مثبت کردار ہے؛ لہٰذا خواتین گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرہ سمیت جہاں بھی موجود ہوں وہاں وحدت کی ثقافت کو فروغ دیں۔ ہماری زبان محبت اور احترام کی زبان ہو، ہماری تحریر اتحاد کا ذریعہ ہو، ہماری تربیت نئی نسل میں اخوت پیدا کرے اور ہمارا عملی کردار مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے والا ہو۔

ڈاکٹر سیدہ تسنیم نے کہا کہ خواتین مذکورہ بالا ذمہ داریوں کو شعوری طور پر ادا کریں تو وہ صرف آج کے معاشرے میں وحدت پیدا نہیں کریں گی، بلکہ آنے والی نسلوں کی فکری اور جذباتی تربیت بھی اس انداز سے کریں گی کہ وہ ایک مضبوط، متحد، پُرامن اور باہمی احترام پر قائم امت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha